Saturday, 21 June 2014

عزت



السلامُ علئیکم دوستو!
آج کی تحریر خواتین کو ڈیڈیکیٹڈ ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کی عزت کرنے کا ڈھونگ تو بہت سے لوگ کرتے ہیں مگر حقیقت تھوڑی مختلف ہے۔ در اصل ہم صرف اُس عورت کی عزت کرتے ہیں جو یا ہماراے خاندان کی ہو یا ہمارے فرقے کی ہو یا کم از کم جس سے ھماری سیاسی وابستگی ہو۔ اگر کوئی عورت اُزبک ہو اور حاملہ ہو اور ہماری فوج اُسے نہتّہ ہونے کے باوجود گولیوں سے چھلنی کر دے تو ہم شور نہیں مچائیں گے، اگر کوئی عورت کسی مولوی نے مدرسّے میں محصور کر رکھی ہو اور ہماری فوج اُسے فاسفورس بم سے اُڑا دے تب بھی ہم فوج کی حوصلہ افضائی کریں گے، ہاں البتّہ وہ عورت ایک ایسے شخص کے گھر سے ناجائز تجاوزات ہٹانے والی پولیس سے جھڑپ میں ماری جائے جو خود کینیڈا میں بیٹھا ہو اور عورتوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہو تو ہم آسمان سر پر ضرور اُٹھائیں گے۔ خود بازار میں پھرنے والی ہر لڑکی کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے لیکن اگر کوئی مخالف سیاسی پارٹی کا سپورٹر ہماری پارٹی کی خواتیں کے بارے میں ایسی بات کرے گا تو اُسے گھٹیا سوچ کا طعنہ دے کر اُس کے خلاف نعرے لگائیں گے، ہم خود مخالف سیاسی جماعت کی خواتین کے ساتھ دست درازی کریں گے مگر اپنی پارٹی کی خواتین کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سُنیں گے۔ خود مخالفین کی بہن بیٹی پہ دن رات کیچڑ اُچھالیں گے مگر اپنی خواتین کو کوئی دیکھے تو اُس کی آنکھیں نکال لیں گے۔ اِن تمام اصولوں کی روشنی میں ہمیں خروٹ آباد، لال مسجد اور ہر روز کراچی میں مرنے والی خواتین پر کوئی افسوس نہیں، ہم صرف اُن خواتین کی موت پر افسردہ ہیں جن کی لعشوں پر ہم سیاست کر سکیں۔ ہم خواتین کی بہت عزت کرتے ہیں اور ایسے ہی ہمیشہ کرتے رہیں گے۔


Twitter: @wacas

Monday, 12 May 2014

بھولی عوام



السلام علئیکم!
آج ۱۲ مئی ہے، سب لوگ کل کے گزرے ہؤے جلسے پہ بحث میں مصروف ہیں، کوئی جلسے کے بہت بڑے اور سودمند ہونے کی گواہی دینے کی کوشش میں ہے تو کوئی جلسے کے مختصر حُجم اور ناکام ہونے کے ثبوت لئیے خوشی منا رہا ہے۔ یہ سب دیکھ کر ذہن میں ایک بات اُبھری کہ یہ عوام کتنی بھولی بھالی ہے، اِس عوام کے بھولےپن کا فائدہ بہت سے لوگوں نے اِسے بیوقوف بنا کر اُٹھایا۔ کبھی اِس عوام کو بیوقوف بنا کر اِسی سے اِسکی ماں (مادرِ ملّت فاطمہ جناح) کو غدّار کہلوایا تو کبھی اِسی عوام کے بنگالی بھائیوں سے ملنے پہ ٹانگیں توڑنے کی دھمکی دی گئی، کبھی راشن کارڈ دے کر ذلیل کروایہ تو کبھی یہ کہہ کر ریفرنڈم کروایا (تم اسلامی نظام کہ ساتھ ہو یا اُسکے خلاف)، کبھی روٹی کپڑا اور مکان کا جھوٹا لالچ دے کر ووٹ ڈلوایا تو کبھی اِسی عوام کو وہاں سے نشانہ بنوایہ جہاں سے اِنھیں پتہ بھی نہ چلے، کبھی اِسی عوام کے ہاتھوں اِسی عوام کا قتلِ عام کروایا تو کبھی ایک لیڈر کے مرنے پہ اِسی عوام کے ہاتھوں اسکے اپنے املاک کو جلوایا۔ لیکن یہ عوام اِس قدر بھولی ہے کہ آج بھی اِس عوام کو اُنھیں لوگوں سے اُمیدیں ہیں جو آج تک اِسے بیوقوف بناتے آئے ہیں۔ کل کے جلسے میں عوام کی شرکت اِسی بھولےپن کا ثبوت ہے، یہ عوام توآپکی سیاسی ڈرامے بازیوں میں یہ بھی بھول چکی ہے کہ کِس طرح آج ہی کی تاریخ ۱۲مئی کو کچھ سال پہلے اِسی عوام کو بیوقوف بنا کر اِسی کے ہاتھوں کراچی میں اِسی عوام کا قتلِ عام کروایا گیا تھا۔ آج کی یہ تحریر اُنھیں بیگناہ لوگوں کے نام ہے جو اِس بلّی چوہے کے کھیل میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اللہ اُن سب کو جنّت نصیب فرمائے ۔ آمین یا ربّلعلمین۔
Twitter: @wacas
Email: gheratjagao@gmail.com

Friday, 9 May 2014

میرے ملک کا وقار



السلام علئیکم قارئین!
آج میں آپکو اپنی ایک کہانی سناتا ہوں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں سکول میں پڑھا کرتا تھا، حسب معمول اکثر گھر پہ جب کوئی مہمان آتا تو مجھ سے پوچھا کرتا تھا کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے اور میں جھٹ سے جواب دیتا تھا کہ فوجی بنوں گا، دشمن کہ فوجیوں کو ماروں گا۔ ۲۳ مارچ کی پریڈ دیکھنا پورے سال کا سب سے دلچسپ موقعہ ہوتا تھا۔ لبّ لباب یہ کہ فوج کی جتنی عذت تھی دل میں شاید اپنے اساتذہ کی بھی نہ ہو۔ سکول ختم ہوا کالج میں قدم رکھا تو کچھ عرصہ میں ہی جنرل مشرف نے مارشل لأ لگا دیا، شروع میں تو کم عقلی کہ باعث سمجھ ہی نہ آئی کہ یہ اچھا ہوا یا بُرا لیکن جیسے جیسے عقل کہ در وا ہؤے تو سمجھ آئی کہ ملک کہ ساتھ کیا ذیادتی ہو رہی ہے۔ جب کالج ختم ہونے کو تھا تو ابّا جان نے پوچھا کے فوج میں جانے کی تیاری ہے نہ؟ میں نے جواب دیا کہ میرا فوج سے کسی قسم کا کوئی لگاؤ نہیں رہا۔ میرے دل میں فوج کی جو عذت تھی وہ مشرف نے معدوم کر دی، وقت گزرتا گیا اور جرنیلوں کا جھوٹا وقار آشکار ہوتا گیا، کیانی صاحب کا دور آیا تو کچھ امّید بندھی مگر صلالہ چیکپوسٹ پر امریکی حملے کا واقعہ پیش آگیا جس کہ جواب میں کیانی صاحب نے نیٹو سپلائی رکوا دی، کچھ مہینے گزرے نیٹو سپلائی بحال ہو گئی اور ساتھ ہی امریکہ نے تابڑ توڑ ڈرون اٹیک کئیے جس میں چند مبئینہ دھشتگرد جب کہ بیشمار معصوم لوگ شہید ہو گئے نظریں ایک بار پھر کیانی صاحب کی طرف اُٹھیں کہ شاید اب بھی کوئی سپلائی بندش کا فیصلہ سامنے آئے مگر کیوںکہ اِس مرتبہ مرنے والے بیفاعدہ سولین تھے تو سپلائی بندش ضروری نہیں سمجھی گئی۔
اِن واقعات اور اِن جیسے سینکڑوں واقعات جن کا اگر ذکر کیا جائے تو ۵۰۰ صفحات کی کتاب با آسانی مرتّب کی جا سکتی ہے ایوب کا فاطمہ جناح کو غدّار ثابت کرنا، جنرل یحئیٰ کا ۷۱ کی جنگ کا کارنامہ، ضیاؑ کے بیشمار کارنامے جس میں ایم قیو ایم کا قیام، ڈالروں کے لئے طالبان کا قیام، مشرف کا ڈالروں کے لئیے امریکہ کو اڈّوں کا فراہم کرنا، اپنے ملک کے بیشمار لوگوں کو امریکہ کے ھاتھ فروخت کرنا اور ایسے بیشمار واقعات ہیں جن سے فوج کی عذت مجھ جیسوں کے دل میں کم ہو گئی مگر ہماری فوج ابھی بھی اِن واقعات پر فخر کرتی ہے اور اُن کی نظر میں فوج کا وقار صرف کسی جنرل کو اُسکے جرم کی سزا دینے سے ہی مجروح ہوتا ہے۔
یہاں ایک بات کا ذکر کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ فوج جو سرحدوں کی حفاظت میں مصروف ہے اُس سے ہمیں ضرور پیار ہے مگر اِن جرنیلوں سے نہیں جواِس ملک کو اپنی جاگیر اور تمام سولیئنز کو اپنی رعایہ سمجھتے ہیں۔
فوجوں کا وقار ملک کی حفاظت کر کے بلند ہوتا ہے ملک پر حکومت کر کے نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئیے گا
 @wacas :twitter

Sunday, 16 March 2014

آگ لگا دو !!

السلام علیکم !

لاڑکانہ میں مندر کے جلایے جانے کے  واقعہ کی خبر پڑھ کر نہایت افسوس ہوا. اس واقعہ کے پیچھے کونسے عوامل کار فرما تھے یہ تو فیصلہ کرنا مشکل ہے مگر عوام نے جس غیر مہذبانہ رویے کا اظہار کیا وہ تکلیف دہ اور اسلام کی اصل تعلیمات سے دوری کی ایک واضح مثال ہے. جنوبی ایشیا کے لوگ ہمیشہ سے ہے جذباتی واقعے ہوے ہیں، اور اکثر شیطانی سوچ کے مالک لوگ انکے جذبات کو ہوا دے کر اپنے ناپاک مقاصد حاصل کرتے آئے ہیں. اس میں مذہب کی بھی تخصیص نہیں ہیں، کبھی بھارت میں الیکشن جیتنے کے لیے ہندو عوام کو بھڑکا کر مسلمانوں پر تشدد کروایا جاتا ہے کبھی پاکستان میں اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے مسلمانوں کے جذبات کو ہوا دے کر غیر مسلم اقلیتوں کی عبادتگاہوں کو نشانہ بنوایا جاتا ہے. ایسے حالات میں میڈیا جلتی پے تیل کا کم کرتا ہے جبکے میڈیا کو اپنا پیشاوارانہ کردار ادا کرتے ہوے ایسی جذباتی کو ٹھنڈا کرنا چاہئیے مگر میڈیا صرف پیسے کی پیچھے بھاگنے کی دوڑ میں جذبات کو مزید ہوا دیتا نظر آتا ہے . 

لاڑکانہ کے واقعے کے بارے میں یوں تو سبھی غمگین ہیں مگر حیرت ان لبرلز پر ہوتی ہے جو اس واقعے سے یہ ثابت کرنے پے تلے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات میں خدا نخواستہ ایسی کوئی کمی ہے جس سے یہ واقعہ رونما ہوا. یہ لبرلز آپکو کبھی بھی ایسے موقع پر نظر نہیں آئیں گے جہاں ظلم اسلام پے ہوا ہو گا، وہاں انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے مندرجہ ذیل کچھ واقعات کے لنکس ہیں جنکا ذکر آپنے کبھی کسی لبرل کے قلم سے نہیں پڑھا ہو گا:

http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/northamerica/usa/9457333/US-mosque-burned-to-ground.html
http://acerbicarushan103.blogspot.com/2013/05/burn-every-mosque-in-arusha-to-ground.html
http://4.bp.blogspot.com/-rhr9se2xmoQ/UZ3dzIiuQnI/AAAAAAAABSg/Y_kXY2AK6mU/s1600/b10.jpg
http://bossip.com/623900/hi-haters-missouri-mosque-burns-to-the-ground-in-a-fire-where-arson-is-suspected-again/
http://hlaoo1980.blogspot.com/2013/05/lashio-mosque-and-madrassa-burning-by.html

اس پوسٹ کا مقصد لاڑکانہ کے واقعے کو سپورٹ کرنا ہر گز نہیں ہے. یہاں میرا مقصد ایسے ہر واقعے کی مذمّت کرنا ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب کے خلاف ہوا ہو، اور عوام میں یہ شعور اجاگر کرنا ہے کے اسلام کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کو یوں جلانے یا نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا مگر جب ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ہمیں ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہئیے چاہے وہ ظلم کسی ہندو پے ہوا ہو یا کسی عیسائی پہ ہوا ہو یا پھر کسی مسلمان پہ، ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوے مذہبی تخصیص رکھنا صرف مںافقوں کا وطیرہ ہے. یاد رہے کے ظالم کا کوئی مذہب نئی ہوتا، کیوں کہ کوئی بھی مذہب ظلم کی تعلیم نہیں دیتا، یہ ہم لوگ ہی ہیں جو ظلم کرنے کے بہانے تلاش کر لیتے ہیں جسکی مثال برما میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم ہیں، بدھ مذہب میں جوتا تک پہننا منع ہے تاکے کیڑے پاؤں تلے آ کر مر نہ جائیں مگر بظاھر اس مذہب کو ماننے والوں نے انسانوں کو پیروں تلے روند دیا، تو کیا ہم بدھ مت کو مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں. جو ظلم انہوں نے کیا وہ انکے مذہب کی تعلیم نہیں ہے، یہ انکی ذاتی نفرت اور جہالت ہے جو انھیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے . 

الله سے یہ دعا مانگتے ہوے اس مضمون کا اختتام کرتا ہوں کہ "یا الله ہمیں تحمل مزاجی عطا فرما اور اسلام کے صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما " آمین 

اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے گا .

ای میل :gheratjagao@gmail.com
ٹویٹر :@wacas


Tuesday, 11 February 2014

ہماری ترجیحات

السلام علیکم دوستو،

دنیا میں ہمیشہ سے چار قسم کے لوگ نظر آتے ہیں، ایک وہ جو مذہب پر پوری ترہا عمل پیرا ہوتے ہیں اور اپنے معبود کے ہر حکم کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، دوسرے وہ جو زیادہ تر ماحول کے ساتھ اپنی سوچ بدلتے رہتے ہیں، اگر مذھبی ماحول میں بیٹھے ہوں تو مذہبی بات کریں گے، اور اگر کسی شیطانی ماحول میں بیٹھ جائیں تو وہاں بھی اپنا پورا حصّہ ڈالیں گے، تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو جہاں بھی ہوں ہمیشہ مذہبی باتوں اور احکامات کے خلاف بات کریں گے، مذہب میں اور مذہبی لوگوں میں برایاں تلاش کریں گے، چوتھی اور آخری قسم ان لوگوں کی ہے جو مذہب میں خود سے سختیاں بڑھا کر ایک نیا مذہب بنا کر بیٹھ جائیں گے اور خود کو سب سے افضل اور باقیوں کو عدنا سمجھیں گے. پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہے نظر آتا ہے. یہاں کچھ تو ایسے مسلمان ہیں جو خود کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں اور باقی سب کو کافر یہاں تک اپنی ناقص عقل کہ تحت جسے وہ کافر کہ دیں اسے جان سے مار دینے کو ثواب سمجھتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو پہلی قسم والوں کی مخالفت میں ان لوگوں کو غلط کہنے کی بجایے اسلام کو ہی غلط کہنا شروع کر دیتے ہیں. اس مسلے کی بنیادی وجہ ترجیحات میں غلطی ہے. جب ہم ذیلی گروہ کو بالائی گروہ پر ترجیح دینے لگتے ہیں تو غلط سمت چل پڑتے ہیں. الله پاک نے ہمیں سب سے پہلے انسان بنایا ہے پھر ہم پر نوازش کی اور ہمیں مسلمان بنایا پھر اپنی رحمتوں کے خزانے میں سے ہمیں پاکستان عطا کیا. تو ہماری پہلی ترجیح انسان ہونا اور دوسروں کو انسان سمجھنا ہونی چاہئیے اور دوسری مسلمان ہونا اور دوسرے مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھنا اور الله کے احکامات پر عمل کرنا ہونی چاہئیے، یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ انسان بننے اور دوسروں کو انسان سمجھنے میں بھی ہم الله ک احکامات کو ہی پورا کرتے ہیں الله ہمیں تمام حقوق العباد پورے کرنے کا حکم دیتا ہے جب ہم الله کہ اس حکم کو پورا کریں گے تو خود بخود پہلی ترجیح پوری ہو جایے گی. تیسری ترجیح ہماری اپنے پیارے وطن سے محبّت اور اس وطن کہ ہم پر جو حقوق ہیں انکو پورا کرنا ہے. لیکن ہم انتہا پسندی میں یا تو دائیں جانب اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ صرف مسلمانوں کو انسان سمجھتے ہیں اور وہ بھی صرف ان مسلمانوں کو جو ہمارے خود ساختہ معیار پر پورا اتریں باقی تمام انسانوں کو ہم ان عدنا جانوروں جیسا تصور کرتے ہیں جنھیں جب چاہا جہاں چاہا قتل کر دیا. یا پھر ہم انتہا پسندی میں بائیں جانب اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ انسانیت کے ان اصولوں کو سب سے اہم قرار دے دیتے ہیں جو انتہائی غیر انسانی اور غیر مہزب معاشرے نے واضح کیے ہیں، ہم اللہ کے احکامات کے خلاف بنایے جانے والے شر پسند ہتھکنڈوں کے استمال سے بھی گریز نہیں کرتے اور اپنے مذہب کو سب سے کم فوقیت دیتے ہوے اسلام سے جڑے ہر حکم اور خود اسلام کو برا بھلا کہنے کو جدت پسندی کا نام دے کر اپنا لیتے ہیں. پچھلے کچھ روز سے طالبان کی جانب سے شریعت کے نفاذ کے مطالبے پر مختلف لوگوں کی ریے دیکھنے میں آئ. اگر ہم لفظی مطلب پر جائیں تو مطالبہ بہت جائز ہے مگر مثلا یہ ہے کہ جس شریعت پی طالبان خود عمل پیرا ہیں اسکا اطلاق تو ناممکن اور بہت سے علما کے نزدیک غلط بھی ہے. لیکن اس مطالبے کو بنیاد بنا کر بائیں بازو کی طاقتیں اصل شریعت  محمدی(صلی اللہ علیہ وسلم)کا مذاق بھی اڑا رہی ہیں اور پوری قوم کو اس رایے پر بھی لانا چاہتی ہیں کہ شریعت کبھی بھی کسی بھی صورت میں نافذ نہیں ہونی چاہئیے. دیکھئے جس خالق حقیقی نے ہمیں انسان بنایا ، ہمیں مسلمان بنایا اور ہمیں پاکستان دیا اگر ہم اس کے احکامات کا مذاق اڑائیں اور انکے نفاز کے مخالف ہوں تو ہمارا انسان ہونا اور مسلمان ہونا قطعی بیکار ہے. الله کے احکامات کے نفاز سے ہم میں سے بوہت سوں کو مشکلات  ضرور آئیں گی لیکن اس عارضی زندگی میں چند مشکلات کو جھیلنے سے ہی ہم اپنی دوسری اور ابدی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں . یہاں ایک حدیث پاک کا ذکر میں ضروری سمجھتا ہوں : "دنیا مومن کے لیے قیدخانہ اور کافر کے لیے جنّت ہے " . اب آپ لوگوں نے خود ہی حساب لگانا ہے کے آپکو جنّت یہاں چاہئیے یا ابدی اور نہ ختم ہونے والی زندگی میں. میں کوئی عالم نہیں ہوں اور نہ ہی یہاں جنّت جہنّم کا فتویٰ دے رہا ہوں، میرا مقصد فقط آپکو اتنا یاد دلانا ہے کہ ہمیں جو زندگی یہاں ملی ہے وہ اپنے خالق حقیقی کو خوش کرنے میں صرف کریں نہ کے اس خالق حقیقی کے منکرین کو خوش کرنے میں. باقی الله سب سے بہتر جاننے والا ہے. اگر کسی کو میری کوئی بات ناگوار گزری ہو تو معذرت. یہ میرے خیالات تھے جن سے میں نے آپکو آگاہ کرنے کی کوشش کی اپپ لوگ میری اس رایے سے اختلاف کا پورا حق رکھتے ہیں. 

اپنی رایے سے ضرور آگاہ کیجئے گا 
وقاص احمد 
ٹویٹر : 
@wacas
 ای میل :
gheratjagao@gmail.com

 

Saturday, 8 February 2014

ہمیں کوئی حق نہیں

کچھ روز پہلے میرے دفتر میں ایک صفائی والا آیا اور اپنی ایک دکھ  داستان سنا ڈالی. اسکے گھر کو کچھ روز پہلے آگ لگ گئی تھی جس کی لپیٹ میں آ کر اس کی بیوی اور دو بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے. اب اسکے پاس نہ رہنے کو گھر ہے اور نہ ہی گھر والے . کمپنی نے اسکی کچھ مدد تو کی لیکن اس قلیل امداد سے ایک گھر بنانا ناممکن ہے. تب میرے  ذہن میں خیال آیا کہ سوشل میڈیا پہ دوستوں سے کہا جایے اور ہو سکے تو کچھ امداد اکٹھی کر کے اس غریب کو دے دی جایے، ایک پیغام ترتیب دیا اور سوشل میڈیا کی ٢ سائٹس ٹویٹر اور فیس بک پر ڈال دیا گیا ، بیشمار لوگوں نے اسے آگے پہنچایا کئی ریٹویٹس ہوئیں اور مجھے امید نظر آئ کہ اب کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا، دیں گذرتے چلے گیے شیئرز اور ریٹویٹس بڑھتی چلی گئیں لیکن کہیں سے بھی کسی نے بھی اس غریب کی امداد نہ کی . تب مجھے اس سوشل میڈیا پے چلائی جانے والی اکثر کمپینز کا خیال آیا. کبھی کوئی خون کا عطیہ مانگتا ہے تو کبھی صرف دعا کا طلبگار ہوتا ہے، کیا ان ساری کمپینز کا حال بھی اسی ترھا ہوتا ہے؟ کہ ہر پڑھنے والا صرف ان پیغامات کو آگے پہنچانے کا کام ہی کرتا ہے؟ کیا صرف ان پیغامات کو آگے پہنچا کر ہمارا فرض پورا ہو جاتا ہے؟ کیا ہم اس قدر بےحس ہو چکے ہیں کہ اپنی کمائی میں سے چند سو روپے نہیں نکال سکتے ؟ اگر ان سوالات کا جواب ہاں میں ہے تو ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم سوشل میڈیا پے ایسے غریبوں کی تصویریں شیر کریں اور لوگوں سے داد وصول کریں کہ ہمارے دل میں انسانیت کا بہت درد ہے. ہمیں حق نہیں پہنچتا کہ ہم حکومت یا کسی شخصیت یا کسی ادارے کو تنقید کا نشانہ بنائیں. جب ہم خود اس قدر بے حس ہیں تو دوسروں پی تنقید کا ہمیں کوئی حق نہیں.

اگر میری باتیں آپکو کڑوی لگی ہوں تو میں معذرت خوا ہوں مگر حقیقت تو کچھ یونہی ہے اور حقیقت اکثر کڑوی ہی ہوا کرتی ہے . اپنی رایے سے ضرور آگاہ کیجئے گا .

وقاص  احمد
Twitter:
@WaCaS
E-mail:
gheratjagao@gmail.com

Wednesday, 8 May 2013

بے خودی بے سبب نہیں غالب

ا سلام علیکم 
پچھلے کچھ دن کافی مصروفیت میں گزرے کے اخبار پڑھ سکا نہ ٹی وی دیکھ سکا اور حد تو یہ ہے کہ ٹویٹر پر بھی جانا کافی کم ہو گیا. کل ٹی وی کافی دن بعد دیکھا اور آج اخبار پڑھا تو ہر طرف ایک ہی قسم کی خبریں تیرتی نظر آئیں ایسا محسوس ہوا جیسے تمام میڈیا ایک مخصوص سیاسی جماعت کی کردار کشی میں مصروف ہے اور یہ بات تو آپ لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ جب میڈیا کسی کی کردار کشی کا ارادہ کر لے تو اس کی اچھاہیوں کو بھی اس ترھا سے پیش کرتا ہے کے دیکھنے والا اس شخص سے نفرت کرنے لگے. اخبارات میں اس کے ٢ صفحات پہ مشتمل بیان میں سے ایسی ستر کو سرخی بنایا جاتا ہے جو کمزور ہو اور اس سارے  بیان کہ اثر کو یکسر تبدیل کر دے . یہ تو تھا میڈیا کا اس ایک جماعت کہ ساتھ سلوک میری حیرانی صرف میڈیا کی وجہ سے نہ تھی کیوں کہ جب میں نے مختلف جماعتوں کہ بیانات پی غور کرنا شروع کیا تو پتا چلا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کا موضوع  بھی اسی ایک جماعت کی کردار کشی ہی ہے جلسہ چاہے پرویز الہی کرے یا رحمان ملک نشانہ ایک ہی ہے بیان چاہے عمران خان دے یا الطاف حسین نشانہ ایک ہی ہے . یعنی یہ تو کچھ یوں بات سمتی گئی کے مذکورہ بالا جماعت جو سب کے نشانے پہ ہے اس کے مخالفین سب یکجان ہو چکے ہیں اور یکجان بھی ایسے کہ ایک دوسرے کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں اگلتے . میڈیا اور یہ تمام سیاسی جماعتیں آخر کیسے ایک ہی جماعت سے نالاں ہیں اور اسکے خلاف صف بندھے کھڑی ہیں اسکا جواب میں تو ڈھونڈنے سے قاصر ہوں اگر آپ کو اسکا کچھ جواب مل جیے تو مجھے ضرور آگاہ کیجئے گا فلحال تو میں غالب کا شیر پڑھنے پے مجبور ہوں 

بے خودی بے سبب نہیں غالب 
کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے